Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

دوسرے ملک میں قربانی کرنے پر قیمت کا حکم؟

Fatwa no.
1728-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میں اپنی فیملی کے ساتھ 15 سال سے دبئی میں مقیم ہوں، میں پاکستان میں اپنی قربانی کروانا چاہتا ہوں، میں نے سنا ہے کہ مجھے قربانی کے لیے پیسے پاکستان کے حساب سے نہیں بلکہ دینی کے حساب سے بھیجنے ہوں گے یعنی دینی میں ایک حصے کے جتنے درہم بنتے ہیں، اتنے پیسے وہاں بھیجنے ہوں گے ، کیا یہ درست ہے ؟

Answer (beginning)

دبئی وغیرہ کسی ایک ملک سے پاکستان وغیر ہ دوسرے ملک پیے بھیج کر قربانی کرواناجائز ہے ، اور اس سلسلے میں حصے کی رقم ہو یا پورا جانور لینا ہو ، اس میں اعتبار بھیجنے والے کے ملک کا نہیں بلکہ جس جگہ قربانی کروانے کے لیے رقم بھیجی جارہی ہے ، اس ملک کے ریٹ کا اعتبار ہے۔ لہذا صورت مسئولہ کے مطابق حصہ ملانے میں دبئی کے ریٹ کا اعتبار نہیں ہے بلکہ پاکستان کی قیمت کا اعتبار ہے کہ جتنے میں گائے وغیرہ بڑے جانور کا ایک حصہ پاکستان میں بنتا ہے، اتنی رقم بھیج دی، اور اس سے وہاں اس کے نام کا حصہ لے کر شرائط کے مطابق قربانی کردی گئی تو قربانی ہو جائے گی اگر چہ دینی میں ایک حصہ اس کے مقابل زیادہ قیمت کا بنتا ہو۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.