Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیش نہ ہو تو قرض لے کر قربانی کرنا کیسا ہے؟

Fatwa no.
1720-WAT

Question

دارالافتاءاہلسنت (دعوت اسلامی) کیا قربانی کے لیے کیش نہ ہو تو ادھار لے کر قربانی کرنی ہو گی ؟

Answer (beginning)

اگر کسی کے پاس حاجت اصلیہ اور قرض کے علاوہ اتنامال ( سونا، چاندی، مال تجارت، یا کسی بھی قسم کا سامان، جائیداد یا کسی بھی قسم کا مال ) قربانی کے ایام میں اتنا ملکیت میں ہے کہ نصاب ہونے کی وجہ سے قربانی واجب ہے مگر کیش کی صورت میں مال موجود نہیں تو اپنی کوئی دوسری چیز بیچ کر قربانی کریں یا ادھار لے کر قربانی کریں، بہر حال جب قربانی واجب ہے تو ادا کرنی ہی ہو گی۔ فتاوی رضویہ میں ہے اور جس پر قربانی ہے، اور اس وقت نقد اس کے پاس نہیں وہ چاہے قرض لے کر کرے یا اپنا کچھ مال بیچے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.