Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا حج تمتع میں حج کی قربانی منی میں کرنا ضروری ہے؟

Fatwa no.
1712-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) حج تمتع والے کی قربانی کیا منی میں ہی کرنا ضروری ہے یا حدود حرم میں کسی بھی جگہ کر سکتے ہیں ؟

Answer (beginning)

حج کی قربانی کا حرم میں ہو نا واجب ہے اور منی میں کرنا سنت ہے ، لہذا اگر کسی نے حدود حرم میں کسی بھی جگہ قربانی کرلی، تو جگہ کے بارے میں جو وجوب تھا، وہ ادا ہو جائے گا۔ لباب و شرح لباب میں ہے ”(ويختص) ای جواز ذبحه (بالمكان وهو الحرم) فلا يجوز ذبحه في غيره اصلا، واما المكان المسنون ففى المبسوط ان السنة في الهدايا ايام النحر منی “ ترجمہ : حج کی قربانی کا جواز مکان کے ساتھ خاص ہے اور وہ مکان حرم ہے ، پس حرم کے علاوہ کسی دوسری جگہ یہ قربانی اصلا جائز نہیں اور جہاں تک حج کی قربانی کے مسنون مقام کا معاملہ ہے تو اس کے متعلق مبسوط میں ہے کہ حج کی قربانی میں سنت یہ ہے کہ ایام نحر میں منی میں ہو۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.