Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نماز میں اشارے سے کسی بات کا جواب دینا کیسا؟

Fatwa no.
1711-WAT

Question

(دعوت اسلامی) کیا نماز ادا کرتے ہوئے اشارہ کر سکتے ہیں، جیسے بچے کوئی چیز پوچھیں تو سر سے ہاں یانہ کا اشارہ کر دیں، کیا اس سے نماز ٹوٹ جائے گی ؟

Answer (beginning)

نماز میں ہاتھ یا سر کے ذریعے اشارہ کرنا مکروہ تنزیہی ہے، لہذا اگر بچے کچھ پو چھیں تو نماز مکمل کرنے کے بعد ہی جواب دیا جائے، البتہ اگر کسی نے جواب دیدیا، تو نماز نہیں ٹوٹے گی، لیکن یہ عمل ضرور مکروہ ہے۔ فتاوی ہندیہ میں ہے "لو أشار برید به رد السلام أو طلب من المصلي شيئا فأشار بيده أو برأسه بنعم أوبلالا تفسد صلاته. هكذا في التبيين ويكره . كذا في شرح منية المصلي لا بن أمير الحاج “ ترجمہ : اگر نمازی نے سلام کا جواب اشارے سے دیا یا کسی نے نمازی سے کوئی چیز طلب کی اور نمازی نے اپنے ہاتھ یا سر سے ہاں یاناں کا اشارہ کیا تو اس کی نماز فاسد نہیں ہوگی ، یونہی تبیین میں ہے، لیکن ایسا کر نا مگر وہ ہے…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.