Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مسافر اگر جمعہ کی نمازادا کرلے تو کیا حکم ہے ؟
- Fatwa no.
- 1710-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی شخص جمعہ کے دن مسافر ہو اور اس نے جمعہ کے خطبے کے بعد امام کے پیچھے جمعہ کی نماز پڑھ لی، تو کیا اس کو پھر سے ظہر کی نماز قصر ادا کرنی ہو گی ؟
Answer (beginning)
مسافر نے اگر جمعہ کے دن نماز جمعہ ادا کر لی تو یہی کافی ہے ، اور اس وجہ سے اس پر سے ظہر کی نماز ساقط ہو جائے گی لہذا اب وہ نماز ظہر نہیں پڑھے گا۔ بحر الرائق میں ہے " ( ومن لا جمعة عليه إن أداها جاز عن فرض الوقت)؛ لأنهم تحملوه فصاروا كالمسافر إذا صام وأشار بقوله جاز عن الفرض إلى أنهم أهل للتكليف۔۔۔ وأما من كان أهلا للوجوب كالمريض والمسافر والمرأة والعبد يجزئهم ويسقط عنهم الظهر “ ترجمہ : جس پر جمعہ فرض نہیں اگر وہ جمعہ ادا کر لے تو وقتی فرض کی طرف سے کفایت کر جائے گا کیونکہ انہوں نے خود جمعہ کا التزام کیا تو وہ اس مسافر کی طرح ہو گئے جو روزہ رکھ لے ، اور مصنف نے اپنے قول (فرض کی طرف سے کفایت کر…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.