Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
آٹھ ذوالحجہ کو منی جانے کا سنت وقت کونسا ہے؟
- Fatwa no.
- 1706-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر آٹھ ذوالحجہ کو حاجی ظہر کے آخری وقت میں یا عصر میں منی پہنچے تو کیا حکم ہے؟
Answer (beginning)
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھویں کی ظہر سے لیکر نویں کی فجر تک پانچوں نمازیں مٹی میں ادا فرمائیں لہذا سنت یہ ہے کہ آٹھ ذوالحجہ کو ظہر کی نماز منی میں ادا کرے لیکن اگر لیٹ ہو گیا اور ظہر منی میں نہیں پڑھ سکا، ظہر مکہ میں یار استہ میں پڑھ کر اس کے بعد ظہر کے آخری وقت میں یا عصر کے وقت میں منی پہنچا تو تب بھی کوئی حرج نہیں۔ لباب و شرح لباب میں ہے ”سنن الحج (الخروج من مكة الى منى يوم التروية) اى بعد فجره حتى یصلی خمس صلوات فی منی “ ترجمہ : حج کی سنتوں میں سے ہے کہ آٹھویں ذوی الحجہ کو فجر کی نماز کے بعد مکہ سے منی جایا جائے تاکہ اگلی پانچ نمازیں منی میں ادا کی جائیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.