Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا حاجی پر تیرہ ذی الحجہ کی رمی کرنا واجب ہے؟
- Fatwa no.
- 1705-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) تیرہ ذوالحجہ کی رمی کرنے کا کیا حکم ہے؟ کیا حاجی پر تیرہ (13) ذوالحجہ کی رمی کرنا واجب ہوتا ہے، اگر کسی نے نہیں کی تو کیا حکم ہے؟
Answer (beginning)
حاجی پر تیرہ ذوالحجہ کی رمی کرنا واجب نہیں ہوتا، البتہ اس کیلئے افضل یہ ہے کہ بارہ ذوالحجہ کی رمی کرنے کے بعد منی میں ہی ٹھہرے اور تیرہ ذوالحجہ کی رمی کر کے مکہ جائے، اور اگر کوئی شخص بارہ ذوالحجہ کی رمی کرنے کے بعد مکہ جانا چاہے تو غروب آفتاب سے پہلے پہلے اختیار ہے کہ مکہ مکرمہ کو چلا جائے، اور اگر مٹی میں ہی غروب آفتاب ہو گیا تو اب اس کیلئے مٹی میں رات گزارنا اور تیرہ ذوالحجہ کی رمی کرنا سنت ہے، لہذا اس صورت میں اگر کوئی شخص بغیر رمی کئے چلا جائے تو اس پر کچھ لازم تو نہیں ہو گا لیکن ایسا شخص سنت کے ترک کی وجہ سے اساءت کا مرتکب ہو گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.