Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نماز کے قیام میں جھک کر کھڑا ہونا کیسا ؟
- Fatwa no.
- 1704-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی شخص نماز کے قیام میں احتراماً تھوڑا سا جھک کر کھڑا ہو، تو یہ کیسا ہے ؟
Answer (beginning)
قیام کی کم سے کم حد یہ ہے کہ اس طرح کھڑا ہو کہ ہاتھ بڑھائے تو گنٹھنے تک نہ پہنچیں اور مکمل قیام یہ ہے کہ سیدھا ا کھڑا ہو، لہذا قیام میں اس قدر جھک کر کھڑا ہونا کہ ہاتھ بڑھانے کی صورت میں گھٹنوں تک پہنچ جائیں، ہر گز درست نہیں کہ اس سے فرض قیام ہی ادا نہیں ہو گا، البتہ اس سے کم جھکنا جس میں ہاتھ گھٹنوں تک نہ پہنچ رہے ہوں، یہ قیام صحیح ہے، لیکن افضل و بہتر یہی ہے کہ قیام میں مکمل طور پر سیدھا کھڑا ہوا جائے، کیونکہ یہ طریقہ نماز میں خشوع پیدا کرتا ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.