Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کھیل میں ہارنے والے پر کچھ کھلانے کی شرط لگانا
- Fatwa no.
- 1702-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کوئی گیم یا کھیل کھیلنے سے پہلے یہ طے کرنا کہ ہارنے والا، جیتنے والے کو کوئی چیز کھلائے گا، تو اس کا کیا حکم ہے؟
Answer (beginning)
گیم یا کھیل کھیلتے وقت پہلے یہ طے کرنا کہ ہارنے والا، جیتنے والے کو کوئی چیز کھلائے گا ، یہ جوا ہے اور جو انا جائز و حرام ہے۔ کیونکہ جب کسی بھی کھیل میں دو طرفہ شرط لگائی جائے کہ دونوں میں سے جو بھی ہارا، وہ جیتنے والے کو کوئی رقم دے گا یا پھر کوئی چیز کھلائے گا، وہ جوئے کی صورت ہوتی ہے اور جواء ناجائز و حرام ہے۔ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : یایھا الذین امنوا انما الخمر والميسر والانصاب والازلام رجس من عمل الشیطن فاجتنبوه لعلکم تفلحون ﴾ ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو ! شراب اور جوا اور بت اور پانسے ناپاک ہی ہیں، شیطانی کام ، تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.