Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بیوی سے ہمبستری نہ کرنے کی قسم کھانا

Fatwa no.
1701-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی شوہر اپنی بیوی کو کہے کہ ” میں قسم اٹھا کے کہتا ہوں کہ میں تمھارے پاس ہمبستری کے لیے کبھی نہیں آؤں گا اس صورت میں کفارہ ادا کرنا ہو گا یا کیا کرنا ہو گا؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں ایلا ہو گیا( ایلا کا معنی ہے کہ شوہر نے چار ماہ تک یا ہمیشہ یا مطلق طور پر عورت سے قربت نہ کرنے کی قسم کھائی ) اور جو الفاظ شوہر نے بولے اس میں ” کبھی نہیں آؤں گا، ہمیشگی کے الفاظ ہیں۔ اب شرعی حکم یہ ہے کہ اگر چار ماہ کے اندر شوہر نے قسم توڑ دی اور صحبت کرلی تو قسم کا کفارہ ادا کرنا ہو گا اور نکاح باقی رہے گا، اور اگر چار ماہ تک صحبت نہ کی تو چار ماہ گزرنے پر بیوی کو ایک طلاق بائن ہو جائے گی، اس کے بعد رجوع کے لیے دوبارہ نکاح کرنا ہو گا، پھر اگر دوبارہ نکاح کر لیا اور چار ماہ تک صحبت نہ کی تو چار ماہ گزرنے پر دوسری طلاق ہو جائے گی، پھر اگر تیسری بار نکاح کر لیا اور اب بھی…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.