Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
جس قیمت پر چیز بیچنے کا وکیل بنایا، اس سے زائد میں بیچنا
- Fatwa no.
- 1697-WAT
Question
اگر کوئی ہمیں کہے کہ چار ہزار کی یہ چیز بکو ادو۔ ہم وہ چیز 4200 کی بیچ دیں تو کیا اوپر والے دو سو ہم رکھ سکتے ہیں ؟
Answer (beginning)
بیان کر دہ صورت میں وہ ساری رقم اس اصل مالک ہی کی ہوگی۔ اوپر والی رقم رکھنا آپ کے لیے جائز نہیں ہے۔ کیونکہ آپ وکیل ہیں اور وکیل اگر موکل کی مقرر کردہ مقدار سے زیادہ میں چیز بیچ دے تو یہ بیچنا درست ہوتا ہے کہ اس میں موکل کا فائد ہ ہی ہے اور وہ ساری رقم موکل ہی کی ملک ہوتی ہے۔ درر الحکام شرح غرر الاحکام میں ہے " (الوكيل إذا خالف أمر الأمر إن كان خلافا إلى خير في الجنس بان و كله ببيع عبده بألف درهم فباعه بألف ومائة ينفذ " ترجمه: وکیل جب حکم دینے والے (موکل) کے حکم کی خلاف ورزی کرے، اگر یہ خلاف ورزی اسی جنس میں بہتری کی طرف ہو یوں کہ اس نے اسے اپنا غلام ایک ہزار درہم کے بدلے بیچنے کا وکیل بنایا…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.