Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا طواف قدوم منیٰ جانے سے پہلے کرنا ضروری ہے؟

Fatwa no.
1694-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) (الف) کیا طواف قدوم ، مٹی جانے سے پہلے کرناضروری ہے؟ (ب) کیا طواف قدوم اور طواف الزیارۃ میں اضطباع کیا جائے گا؟

Answer (beginning)

(الف) طواف قدوم کا وقت، مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے لے کر، وقوف عرفہ سے پہلے تک ہے، اگر کسی نے طواف قدوم نہ کیا اور و قوفِ عرفہ ادا کر لیا، تواب اُس پر سے طواف قدوم کی ادائیگی ساقط ہو جائے گی، لہذا طواف قدوم مٹی جانے سے پہلے کرناضروری نہیں لیکن چونکہ مٹی جانے کے بعد ، وقوفِ عرفہ سے پہلے ، طواف قدوم کیلئے دوبارہ مکہ مکرمہ آنا عام طور پر انتہائی مشکل معاملہ ہوتا ہے ، اس لئے مٹی جانے سے پہلے پہلے طواف قدوم کر لیا جائے۔ (ب) طواف قدوم میں اضطباع اس وقت کیا جائے گا جب اس کے بعد حج کی سعی کرنی ہو ، لہذا اگر کسی نے طواف قدوم کے بعد حج کی سعی نہیں کرنی، تو اب اُس کے لئے طواف قدوم میں اضطباع بھی نہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.