Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

جدہ کا رہائشی حج کے مہینوں میں عمرہ کر لے تو حج کا حکم؟

Fatwa no.
1688-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میں جدہ کارہائشی ہوں، میرا حج کا ارادہ تھا اور میں نے حج کے مہینوں میں عمرہ کر لیا ہے تو کیا اب میں اس سال حج کر سکتا ہوں؟

Answer (beginning)

آپ جدہ کے رہنے والے ہیں تو اگر آپ کا اس سال حج کا ارادہ تھا تو آپ کے لیے حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا منع تھا، بہر حال اب آپ نے عمرہ کر لیا ہے ، تو اب آپ اس سال حج نہیں کر سکتے ، آئندہ سال حج کریں،اگر اس سال حج کیا تو گناہ بھی ہو گا اور اس جرم کے کفارے میں دم دینا بھی لازم ہو گا۔ تفصیل اس میں یہ ہے کہ : جدہ میقات کے اندر ہے اور جو لوگ میقات کے اندر رہتے ہوں (چاہے مکہ میں رہتے ہوں یاکسی اور مقام پر ) اگر وہ اس سال حج کا اردہ رکھتے ہوں، تو ان کے لیے حج کے مہینوں ( یکم شوال سے لے کر 10 ذوالحجہ تک ) میں عمرہ کرنا منع ہوتا ہے اور اگر وہ حج کے مہینوں میں عمرہ کر لیں تو پھر ان کو اس سال حج کرنے کی…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.