Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
چھ تولہ سونا بیچ کر چاندی لی تو زکوۃ فرض ہوگی؟
- Fatwa no.
- 1687-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کسی شخص کے پاس چھ (6) تولہ سونا ہو اور وہ چھ تولہ سونے کو بیچ کر چاندی لے ، تو کیا اب اس پر زکوۃ فرض ہو گی ؟
Answer (beginning)
تنہا چھ تولہ سونا ہو تو اس پر زکاة فرض نہیں ہوتی لیکن اگر کوئی شخص چھ تولہ سونے کو بیچ کر چاندی خرید لے تو آج کل چونکہ چھ تولہ سونے کو بیچ کر نصاب (ساڑھے باون تولہ) سے بھی زائد چاندی مل جاتی ہے، لہذا اگر حاجت اصلیہ اور قرض کو نکال کر تنہا چاندی یا اس کی جنس کے دیگر مال زکوۃ سے ملا کر ، چاندی کا نصاب ( یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی) مکمل ہو تو زکوۃ کی دیگر شرائط پائے جانے کی صورت میں اُس پر زکوۃ فرض ہو گی۔ در مختار میں ہے: ”نصاب الذهب عشرون مثقالا والفضة مائتا درهم “ ترجمہ : سونے کا نصاب میں مثقال ( یعنی ساڑھے سات تولہ) ہے اور چاندی کا نصاب دو سو درہم (یعنی ساڑھے باون تولے) ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.