Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

اگر وضو میں کوئی فرض رہ جائے تو کیا حکم ہے؟

Fatwa no.
1686-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) وضو کرتے ہوئے اگر کوئی فرض حصہ دھلنے سے رہ گیا، بعد میں یاد آیا، تو مکمل وضود و بارہ کر نا ہو گا یا فقط وہی حصہ دھو لینا کافی ہو گا ؟

Answer (beginning)

وضو یا غسل میں کوئی عضور ھلنے سے رو جائے، تو یاد آنے پر قتل اس عضو کو دھولینا کافی ہے، دوبارہ سے مکمل وضو یا غسل کرنا ضروری نہیں ہے۔ البتہ ! یہ خیال رہے کہ اگر واقعی کوئی فرض عضو د ھلنے سے رہ گیا، پھر اسی حالت میں نماز ادا کر لی اور بعد میں یاد آیا تو وہ نماز نہ ہوگی کیونکہ فرض رہ جانے کی وجہ سے وضو یا غسل ہی نہ ہوا، اور جب وضو یا غسل نہ ہوا، تو نماز بھی نہ ہوئی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.