Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

رکوع میں سجدوں کی تسبیحات پڑھنا اور تسمیع و تحمید نہ کہنا

Answered by
محمد عرفان مدنی عطاری
Fatwa no.
1684-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر رکوع میں رکوع کی تسبیح پڑھنے کے بجائے بے خیالی میں سجدہ کی تسبیح پڑھ دی اور پھر رکوع سے اٹھتے ہوئے تسمیع و تحمید بھی نہیں کہا اور تکبیر کہتے ہوئے سجدے میں چلے گئے تو نماز کا کیا حکم ہے ؟ کیا سجدہ سہو سے نماز ہو جائے گی یا نماز کو لوٹانا ہوگا ؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں نماز ہو گئی ، نہ سجدہ سہو لازم آیا اور نہ نماز کا ہر انا لازم ہوا، کیونکہ رکوع میں سبحان رہی العظیم کہنا سنت ہے ، اسی طرح مقتدی کے لیے صرف تحمید کہنا اور منفر د یعنی تنہا نماز پڑھنے والے شخص کے لیے رکوع سے اٹھتے ہوئے تسمیع و تحمید ( یعنی سمع الله لمن حمده، اللهم ربنا ولک الحمد) دونوں کہنا سنت ہے اور سنت کے ترک سے نہ تو نماز فاسد ہوتی ہے اور نہ ہی سجدہ سہو لازم ہوتا ہے اور نہ اس وجہ سے نماز کو دہر انالازم ہوتا ہے۔ ردالمحتار میں ہے ”السنۃ فی تسبیح الرکوع سبحان ربی العظیم ترجمہ : رکوع کی تسبیح میں سبحان ربی ، ، العظیم کہنا سنت ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.