Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
دوران طواف حیض آجائے تو عمرہ کا کیا حکم ہوگا؟
- Fatwa no.
- 1682-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) طواف کے دوران عورت کو حیض آجائے تو کیا حکم ہے؟ نیز عمرہ تو اب حیض ختم ہونے کے بعد ہی مکمل ہو گا لیکن اب احرام کی حالت میں اتنے دن کیسے گزارے؟
Answer (beginning)
اگر عورت کو طواف کے دوران حیض آجائے تو اس کے لیے حکم شرعی یہ ہے کہ طواف کو وہیں چھوڑ دے اور فوراہی مسجد سے باہر آجائے ، اور اب صبر ورضا کے ساتھ احرام کی پابندیوں کا خیال رکھتے ہوئے ناپاکی کے ایام گزارے، اللہ تعالی کی رحمت سے امید ہے کہ اس تکلیف پر صبر کرنے کی صورت میں اُسے اجر و ثواب عطا فرمائے ، پھر جب حیض سے فارغ ہو جائے تو غسل کر کے طواف کرے، اب اگر طواف کے چار پھیرے مکمل ہونے سے پہلے حیض آیا تھا تو اس صورت میں اسے اختیار ہے کہ چاہے تو ساتوں پھیرے نئے سرے سے شروع کرے اور چاہے تو جہاں سے چھوڑا تھا، وہیں سے شروع کرلے، اور اگر چار یا اس سے زیادہ پھیرے مکمل ہو گئے تھے تو اب نئے سرے سے طواف…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.