Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بچوں کی شادی کیلئے جمع کی گئی رقم پر زکوۃ فرض ہوگی؟

Fatwa no.
1678-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر بچی نا بالغ ہو اور والدین اس کی شادی کے لیے پیسے جمع کر رہے ہوں اور وہ پیسے نصاب کو پہنچ جائیں تو کیا ان پیسوں پر زکوۃ واجب ہو گی ؟ اور کیا قربانی بھی واجب ہو گی ؟

Answer (beginning)

بچی کی شادی کے لیے جمع شدہ رقم جب خود یاد دوسرے اموال زکوۃ سے مل کر نصاب کو پہنچ جائے اور اس پر سال بھی گزر جائے، تو ز کوۃ واجب ہونے کی دیگر شرائط پائے جانے کی صورت میں ، والدین میں سے جس کی ملکیت میں وہ رقم ہے ، اس پر اس کی زکوۃ واجب ہوگی، کیونکہ بچی کی شادی کے لیے جمع شدہ رقم حاجت اصلیہ میں شمار نہیں ہو گی بلکہ حاجت اصلیہ سے زائد ہے اور حاجت اصلیہ سے زائد رقم جب خود یا دیگر اموال زکوۃ سے مل کر نصاب کو پہنچ جائے اور دیگر شرائط پائی جائیں تو اس رقم پر زکوۃ واجب ہوتی ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.