Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نماز میں ہلنا جھلنا کیسا ہے ؟

Fatwa no.
1677-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا نماز میں ملنے سے نماز ہو جائے گی ؟

Answer (beginning)

نماز میں بلاوجہ شرعی دائیں بائیں جھومنا مکروہ تنزیہی ہے ، اس سے بچنا چاہئے ، لیکن اس کے باوجود نماز ہو جائے گی۔ ہاں تراوح یعنی کبھی ایک پاؤں پر زور دینا اور کبھی دوسرے پر ، یہ سنت ہے۔ فتاوی ہندیہ میں ہے ” ویکرہ التمايل على يمناه مرة وعلى يسراه أخرى. كذافي الذخيرة ترجمہ : نماز میں دائیں طرف اور پھر بائیں طرف جھکنا مکروہ ہے، جیسا کہ ذخیرہ میں ہے۔ (فتاوی ہندیہ، کتاب الصلاة، فصل فیما یکرہ فی الصلاۃ۔۔الخ،ج1، ص108،دارالفکر، بیروت) اس کے تحت امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : ”قوله : " ویکرہ التمایل علی يمناه مرة وعلى يسراه أخرى۔۔۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.