Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
سرپر تیل لگا ہوتوغسل ہوجائے گا یا نہیں ؟
- Fatwa no.
- 1671-WAT
Question
(دعوت اسلامی) مرد یا عورت پر غسل فرض ہو جائے اور سر پر تیل لگا ہو، تو کیا بغیر شیمپو کے نہانے سے غسل ہو جائے گا یا شیمپو استعمال کر کے تیل مختم کرناضروری ہے؟
Answer (beginning)
عام طور پر تیل کا کوئی جرم وغیرہ نہیں ہوتا کہ جس کی وجہ سے پانی جلد تک نہ پہنچ سکے ، لہذا پو چھٹی گئی صورت میں سر میں تیل کی چکناہٹ باقی رہنے کے باوجود بھی فرض غسل ہو جائے گا، شیمپو و غیرہ سے چکنائی دور کرناضروری نہیں۔ چنانچه در مختار اور امداد الفتاح و مراقی الفلاح میں ہے ( واللفظ للآخر) "بقاء دسومة الزيت ونحوه لا يمنع لعدم الحائل “ ترجمہ : تیل وغیرہ کی چکناہٹ کا باقی رہنا وضو سے مانع نہیں کیونکہ پانی کے جسم تک پہنچنے میں کوئی رکاوٹ نہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.