Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
جدہ سے حج کے لیے جائیں تو احرام باندھنے کا حکم؟
- Fatwa no.
- 1667-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میں انڈیا میں ہوں، مجھے جدہ کسی کام سے تین دن کے لیے جانا ہے۔ پھر میر اوہاں سے حج افراد کرنے کا ارادہ ہے۔ کیا میں ڈائر یکٹ حرم جاکر احرام باندھ لوں ؟ کیا یہ ممکن ہے؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں آپ کا اولا ارادہ جدہ جانے کا ہے اور پھر وہاں سے حج کرنے کا ارادہ ہے تو اس صورت میں میقات سے احرام باندھنا آپ پر لازم نہیں ہے لیکن جب آپ جدہ سے حج کے لیے نکلیں گے تو اب حرم میں پہنچ کر احرام نہیں باندھیں گے ، بلکہ حرم سے پہلے احرام باندھنا ہو گا، اس کے لیے حرم سے باہر جہاں چاہیں، وہیں سے احرام باندھ سکتے ہیں اور بہتر یہ ہے کہ جدہ جہاں کام سے جانا ہے ، وہیں سے احرام باند ھیں۔ المختار میں ہے " ومن كان داخل الميقات فمیقاته الحل " ترجمہ : اور جو میقات کے اندر رہنے والا ہے ، تواس کی میقات حل ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.