Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

جس فرش پر نجاست گر کر خشک ہوگئی ہو اس پر نماز پڑھنا

Fatwa no.
1665-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) فرش پر نجاست گری تھی لیکن اب فرش صاف ہے ، نجاست کا اثر اس پر نہیں ہے تو اب وہاں ایسا مصلی بچھا کر نماز پڑھنا کہ جس کا پیشانی لگنے والا حصہ باریک ہے، یہ کیسا ہے؟

Answer (beginning)

اگر تو واقعی فرش صاف ہے اور جو نجاست پڑی تھی ، وہ خشک ہو کر ختم ہو گئی اور اس نجاست کا اثر یعنی رنگ اور بو ختم ہو چکا ہے تو اس صورت میں وہ فرش پاک ہے اور ایسی صورت میں اس فرش پر نماز ہو جائے گی، خواہ مصلی باریک ہویا موٹا، بلکہ مصلی بچھائے بغیر بھی نماز ہو جائے گی۔ بہار شریعت میں ہے ”ناپاک زمین اگر خشک ہو جائے اور نجاست کا اثر یعنی رنگ و بو جانتار ہے پاک ہو گئی ، خواہ وہ ہوا سے سو کھی ہو یاد ھوپ یا آگ سے مگر اس سے تیمیم کر ناجائز نہیں، نماز اس پر پڑھ سکتے ہیں۔۔۔۔ اگر پتھر ایسا ہو جو زمین سے جدا نہ ہو سکے تو خشک ہونے سے پاک ہے ورنہ دھونے کی ضرورت ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.