Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

صرف سترِعورت چھپا کر نماز پڑھی تو کیا حکم ہے ؟

Fatwa no.
1661-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ستر عورت یعنی مرد کا ناف سے لے کر گٹھنے تک (اس میں گھٹنا بھی شامل ہے) جسم کا حصہ چھپانا فرض ہے، میرا سوال یہ ہے کہ کسی نے جان بوجھ کر گھر میں صرف اتنا حصہ ہی چھپا کر نماز پڑھی، بقیہ سارا جسم نگا تھا تو اس کی نماز کا کیا حکم ہوگا؟

Answer (beginning)

مرد نے کپڑے ہوتے ہوئے بلا وجہ شرعی جسم کا صرف ستر والا حصہ چھپا کر نماز پڑھی اور اوپر والا سارا جسم ننگا تھا تو نماز کا فرض تو ساقط ہو گیا۔ البتہ ! نماز مکروہ تحریمی ہوئی یعنی اس طرح نماز پڑھنا گناہ ہے ، جس سے تو بہ کرنا اس پر لازم ہے اور اس کا اعادہ (لوٹانا) لازم ہے۔ اور اگر اس کا اعادہ نہ کیا تو دوسرا گناہ ہو گا۔ سیدی امام اہلسنت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی نور اللہ مرقدہ فرماتے ہیں: "صرف پائجامہ پہنے بالائی حصہ بدن کا نگار رکھ کر نماز بایں معنی تو ہو جاتی ہے فرض ساقط ہو گیا، مگر مکروہ تحریمی ہوتی ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.