Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
قرض میں تاخیر ہونے پر لیٹ فیس دینا کیسا؟
- Fatwa no.
- 1660-WAT
Question
(دعوت اسلامی) ایک پلیکیشن شاپنگ کرنے کے لیے قرضہ دیتی ہے، مثلا پانچ ہزار، جو اگلے مہینے تک واپس کرنا ہوتا ہے ، اگر نہیں کر پائے ، تولیٹ کرنے کی فیس دینا پڑتی ہے اور ان کی 17 روپیہ فیس ہوتی ہے، تو کیا شاپنگ کے لیے اس طرح کا قرضہ لینا درست ہے؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں شاپنگ وغیرہ کے لیے اس اپلیکیشن سے قرضہ لینا، ناجائز ہے کیونکہ یہ سودی معاہدے پر مشتمل ہے۔ جتنی رقم قرض دی جائے، اس سے زیادہ واپس لینے کی شرط لگانا سود ہوتا ہے، چاہے لیٹ فیس یعنی جرمانے کے نام سے لی جائے یا کسی بھی نام سے لی جائے۔ اور اگر بالفرض لیٹ ہونے سے پہلے قرضہ ادا کر دیں اور قرض سے زیادہ رقم نہ دینی پڑے، تب بھی قرض لینے کی اجازت نہیں ہو گی کیونکہ قرض لینے میں سودی معاہدہ موجود ہے یعنی قرض لینے والے کی طرف سے یہ معاہدہ پایا جارہا ہے کہ : " اگر میں نے قرض لیٹ کیا، تو اضافی رقم دوں گا۔ اور جس طرح سود لینا، دینا حرام ہے ، اسی طرح اس کا معاہدہ کرنا بھی حرام ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.