Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
میاں بیوی کا 15 سال ایک دوسرے سے الگ رہنے کے بعد ایک ساتھ سفر کرنا
- Fatwa no.
- 1651-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میں امریکہ میں رہتی ہوں، شادی کو 27 سال ہو چکے ہیں، کم و بیش 15 سال سے ہم میاں بیوی ایک ہی شہر ، ایک ہی ایریا میں الگ الگ رہتے ہیں، میاں بیوی والے کوئی تعلقات نہیں ، بات چیت ملنا جلنا ہوتا ہے ، ہمارے درمیان طلاق وغیرہ نہیں ہوئی۔ سوال یہ ہے کہ کیا میں ایسے شوہر کے ساتھ شرعی سفر کر سکتی ہوں یا عمرہ پر جاسکتی ہوں ؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں اگر واقعی شرعا طلاق وغیرہ، جدائی والی کوئی صورت واقع نہیں ہوئی تو اگرچہ ایک دوسرے سے ناراضی ہے، لیکن شرعی طور پر تو میاں بیوی کا رشتہ موجود ہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں شوہر کے ساتھ کسی بھی شرعی سفر میں جانے میں کوئی حرج نہیں، خواہ وہ عمرہ و حج کا سفر ہی کیوں نہ ہو۔ نوٹ : یہ یادر ہے کہ ! بیوی، بلاوجہ شرعی شوہر کی رضا واذن کے بغیر اس سے دور نہیں رہ سکتی، اور شوہر کے لیے بھی بیوی کی رضا واذن کے بغیر ، بلاوجہ شرعی چار مہینے تک بیوی سے اس طرح دور رہنا کہ میاں بیوی والے تعلقات نہ کرے ، یہ جائز نہیں۔ یہ دوری دونوں میں سے جس کی طرف سے ہے، وہ جواب دہ ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.