Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ساری زندگی غلط نمازیں پڑھیں توکیا حکم ہے؟

Fatwa no.
1649-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی شخص ساری زندگی نماز پڑھتارہا، لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ وہ غلط نماز پڑھتا تھا ( نماز کی شرطیں پوری نہ ہوئیں۔ یا عمل کثیر کرتا ہو ، وغیرہ وغیرہ) تو کیا اس کو اعادہ کرنا پڑے گا یا قضا؟ نیز اس کا طریقہ بھی بتادیں۔

Answer (beginning)

اگر کسی شخص نے نماز کی شرائط میں سے کسی شرط کو پورا نہ کیا، مثلاً طہارت، ستر عورت وغیرہ کو شرعی طور پر مکمل نہ کیا یا نماز میں کوئی ایسا عمل کیا، جس سے نماز فاسد ہو جاتی ہے، تو اس طرح جتنی نمازیں پڑھی ہیں، ان تمام نمازوں کا لوٹانا فرض ہو گا۔ اور اگر جان بوجھ کر کوئی واجب ترک کیا یا بھولے سے واجب چھوڑا اور سجدہ سہو نہیں کیا، تو ایسی تمام نمازیں واجب الاعادہ ہوں گی۔ لہذا ایسے شخص کو حکم ہے کہ ظن غالب کرے، یعنی اچھی طرح سوچے کہ کتنی نماز میں میری اس طرح فاسد ہوئیں، ان کو ادا کرے یا کتنی واجب الاعادہ ہوئیں، ان کا اعادہ کرے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.