Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ٹیچرکے کہنے پرجھوٹ بولنا
- Fatwa no.
- 1648-WAT
Question
(دعوت اسلامی) ٹیچر کو اکیڈ می انچارج نے کہا کہ آپ ایک سٹوڈنٹ کو سیپیرٹ پڑھائیں گے ، جب کہ ٹیچر ایک ساتھ تین چار سٹوڈنٹس کو پڑھائے اور سٹوڈنٹ سے کہے کہ اگر اکیڈ می انچارج نے پوچھا تو کہنا کہ سیپیرٹ پڑھایا ہے، اس پر سٹوڈنٹ کہے کہ " یہ تو جھوٹ ہے تو ٹیچر کہے: "آپ اپنی طرف سے تو نہیں کہہ رہے ناں ؟ سوال یہ ہے کہ ٹیچر کی بات مان کر اکیڈمی انچارج سے کہنا کہ سیپیرٹ پڑھایا ہے، یہ جھوٹ ہوگا یا نہیں؟
Answer (beginning)
ٹیچر نے سیپرٹ نہیں پڑھایا اور طالب علم سے کہا کہ اکیڈ می انچارج پوچھے تو کہنا کہ سیپرٹ پڑھایا ہے، یہ جھوٹ ہے کیونکہ یہ خلاف واقع یعنی حقیقت حال کے خلاف بات ہے اور خلاف واقع بات کو جھوٹ کہتے ہیں، ٹیچر کا طالب علم کو جھوٹ بولنے کا کہنا جائز نہیں اور ٹیچر کے کہنے پر طالب علم کو جھوٹ بولنے کی ہر گز اجازت نہیں، کیونکہ جھوٹ بولنے میں اللہ تبارک و تعالی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی ہے اور اللہ ورسول (عزوجل و صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی میں کسی شخص کی اطاعت نہیں کی جاسکتی خواہ وہ ٹیچر یا والدین ہی کیوں نہ ہوں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.