Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

جسے جماع پرقدرت نہ ہواس کےلیے طلاق کاحکم

Fatwa no.
1644-WAT

Question

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میں بیوی کے ساتھ جماع کرنے پر قدرت نہیں رکھتا، سات آٹھ سال ہو گئے ہیں، علاج بھی بہت کروایا ہے ،اب چاہتا ہوں کہ میں بیوی کو طلاق دے دوں تا کہ وہ گناہ میں نہ پڑے، کیا میں اسے طلاق دے سکتا ہوں؟

Answer (beginning)

شوہر پر وقفہ وقفہ سے اپنی بیوی کے ساتھ جماع کرنا واجب ہے، بغیر اس کی مرضی کے چار مہینے تک بلا عذر صحیح شرعی اس سے جماع نہ کرنا جائز نہیں۔ لہذا پوچھی گئی صورت میں اگر واقعی آپ جماع پر قدرت نہیں رکھتے ، اور اتنے علاج کے باوجود بھی قدرت نہیں آئی، اور اس بنا پر عورت کا حق ضائع ہوتا ہے ، تو اگر آپ کی بیوی آپ کے ساتھ رہنے پر راضی نہ ہو ، تو آپ پر طلاق دینا واجب ہے۔ فتاوی رضویہ میں ہے " بالجملہ عورت کو نان و نفقہ دینا بھی واجب اور رہنے کو مکان دینا بھی واجب اور گاہ گاہ اس سے جماع کرنا بھی واجب جس میں اسے پریشان نظری نہ پیدا ہو ، اور اسے معلقہ کر دینا حرام، اور بے اس کے اذن ورضا کے چار مہینے تک ترک…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.