Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

غیرمسلم سے اس کا گھر Heavy Deposit (گروی)پر لینا

Fatwa no.
1641-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کوئی غیر مسلم اپنی مرضی سے اپناگھر Heavy Deposit(گروی) پر دے تو اس کا کیا حکم ہے؟

Answer (beginning)

غیر مسلم کو پیسے قرض دے کر اُس کی چیز رہن لینے اور اس سے نفع حاصل کرنے میں شرعا کوئی حرج نہیں ہے ، مگر یہ ضروری ہے کہ اپنے قرض پر نفع لینے یا سود کی نیت نہ کرے بلکہ یہ نیت رکھے کہ کافر کی رضامندی سے اس کے مال پر قبضہ کر رہا ہوں، جو کہ جائز ہے اور اس مباح سے نفع حاصل کرتا ہوں۔ البته ! صاحب وجاہت دیندار افراد، جن کو لوگ اپنی نافہمی کے سبب، اس طرح کا لین دین کرنے پر سود خور مشہور کریں، ان کو اس طرح کا معاملہ کرنے سے بچنا چاہیے کہ جس طرح برے کام سے بچنا ہوتا ہے ، اسی طرح برے نام سے بھی بچنا چاہیے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.