Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کلمہ پڑھ کرکسی کام سے رکنے کا ارادہ کرکے پھراسےکرنا

Fatwa no.
1637-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی کلمہ پڑھ کہ کہتا ہے کہ میں فٹ بال نہیں کھیلوں گا لیکن پھر بھی کھیل لیتا ہے اسے پتہ بھی ہے کہ میں نے کلمہ پڑھا ہوا ہے اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟

Answer (beginning)

صورت مسئولہ میں جس نے کلمہ پڑھ کر کہا کہ میں فٹ بال نہیں کھیلوں گا، شر عایہ قسم ہو گئی۔ قسم کے بعد اگر کھیلا ہے تو اس کی قسم ٹوٹ گئی ، اب اس پر قسم کا کفارہ لازم ہے۔ بہار شریعت میں ہے " ان الفاظ سے بھی قسم ہو جاتی ہے۔۔۔۔ مجھ پر قسم ہے۔ لا الہ الا اللہ میں یہ کام نہ کروں گا۔" (بہار شریعت،ج02، حصہ 09،ص301،مكتبةالمدينه) قسم کا کفارہ : دس مسکینوں کو صبح و شام دو وقت کا کھانا کھلائیں اور اس میں جن کو صبح کھانا کھلایا ان ہی کو شام میں بھی کھلائے تب ہی کفارہ ادا ہو گا، اور یہ ہو سکتا ہے کہ دسوں کو ایک ہی دن کھلا دے یا ہر روز ایک ایک کو یا ایک ہی کو دس دن تک دونوں وقت کھلائے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.