Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
رمضان کی سحری و افطاری سے بچنے والے چندے کا حکم؟
- Fatwa no.
- 1634-WAT
Question
دارالافتاءاہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کسی شخص کی ذمہ داری رمضان میں افطار کرانے کی ہو اور لوگ اس شخص کو افطار کرانے کے لیے رقم دیتے ہیں اور وہ شخص اس رقم سے افطار کراتا ہے، جب رمضان کا مہینہ ختم ہو جاتا ہے تو کچھ روپیہ کی جاتا ہے ، اب وہ شخص یہ رقم تو بچ کسی مدرسہ میں خرچ کرنے کے لیے دے سکتا ہے ؟ یا پیر شریف وغیرہ کسی نفلی روزہ کی سحری و افطاری میں خرچ کر سکتا ہے ؟ اگر نہیں کر سکتا اور اب چندو د ینے والوں کے متعلق بھی کوئی معلومات نہ ہو کہ ان سے رابطہ کیا جا سکے ، تواب اس رقم کا کیا کیا جائے گا؟ براہ کرم شرعی رہنمائی فرمائیے۔
Answer (beginning)
بیان کردہ صورت میں وہ رقم چندہ دہندگان (دینے والوں) کی اجازت کے بغیر مدرسہ وغیرہ میں خرچ کر نادرست نہیں ہے۔ نیز ر مضان میں لوگ عموماً جب سحر و افطار کے لیے رقم دیتے ہیں، تو اس سے رمضان کی سحری و افطار ہی مراد ہوتی ہے، لہذا پیر وغیر ہ کسی نفلی روزے کی سحری و افطاری میں بھی و در قم صرف کرنا درست نہیں۔ اور اب جبکہ چندہ دہندگان (دینے والوں) کا علم بھی نہیں کہ ان سے کسی دوسرے کام کے لیے اجازت لی جائے، تو اس کا حل یہ ہے کہ اس رقم کو اگلے رمضان تک سنبھال کر رکھا جائے اور اگلے رمضان کی افطاری میں اسے استعمال کیا جائے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.