Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

غریب کی بیٹی کی شادی کے لئے جمع پیسوں پر زکوۃ؟

Fatwa no.
1620-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) تین، چار سال بعد ایک غریب رشتہ دار بچی کی شادی کروانی ہے ، اور اس پر کم و بیش چار لاکھ روپے خرچ ہونے ہیں، تو کیا اس نیت سے ابھی سے ہر سال زکوۃ کے پیسے رکھ سکتے ہیں، تاکہ شادی تک اتنی رقم جمع ہو جائے ؟

Answer (beginning)

زکوۃ کا سال پورا ہونے کے بعد اس کی ادائیگی فی الفور لازم ہوتی ہے، بلا عذر شرعی تاثیر گناہ ہے، لہذا سال پورا ہونے کے بعد زکوۃ کی رقم اس نیت سے روکے رکھنا کہ چند سال بعد اس رقم سے غریب کی شادی کروادوں گا، اس کی ہر گز اجازت نہیں، بلکہ سال پورا ہونے پر فوری طور پر شرعی فقیر کو ادا کرناضروری ہے۔ فتاوی عالمگیری میں ہے: " وتجب على الفور عند تمام الحول حتى يأثم بتأخيره من غير عذر ۔ ترجمہ : سال مکمل ہونے پر زکوۃ کی فورا ادا ئیگی کرناواجب ہوتا ہے یہاں تک کہ بلا عذر اس میں تاخیر کرنے سے گناہ گار ہو گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.