Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کسی کی چندے کی رقم کے بجائے اپنی ذاتی رقم مسجد وغیرہ میں دینا
- Fatwa no.
- 1613-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی شخص دوسرے کو مسجد کا چند ودینے کا وکیل بنا کر اس کے اکاؤنٹ میں رقم ڈال دے، اور جس کے اکاؤنٹ میں ڈالا گیا، اس کے پاس اپنی ذاتی رقم کیش میں اتنی موجود ہو ، جو چندے والے نے اس کے اکاونٹ میں ڈالی ہے، تو کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ وہ شخص اپنی کیش والی رقم مسجد میں دے دے اور اکاؤنٹ والی رقم اپنے استعمال میں لے آئے ؟ کیا اس کا ایسا کر ناشر عادرست ہو گا ؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں پہلے اپنی ذاتی رقم اس نیت سے مسجد میں دے دے کہ اس کے عوض چندے والی رقم لے لوں گا اور بعد میں اکاؤنٹ میں موجود چندہ کی رقم اپنے ذاتی استعمال میں لے آئے، تو یہ درست ہے۔ ہاں ایسا نہیں کر سکتا کہ پہلے چندے والی رقم اپنے ذاتی استعمال میں لے آئے اور بعد میں اپنی رقم اس کی طرف سے مسجد میں دے دے۔ بہار شریعت میں ہے "ز کو ۃ دینے والے نے وکیل کو ز کوۃ کاروپیہ دیا، وکیل نے اسے رکھ لیا اور اپناروپیہ زکوۃ میں دید یا، تو جائز ہے، اگر یہ نیت ہو کہ اس کے عوض مؤکل کاروپیہ لے لے گا اور اگر وکیل نے پہلے اس رو پہیہ کو خود خرچ کر ڈالا، بعد کو اپناروپیہ زکوۃ میں دیا، تو زکوۃ ادا نہ ہوئی، بلکہ یہ…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.