Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بچوں کی رقم سےمٹھائی جمع کرکےجیتنے پرکسی ایک کودینا

Fatwa no.
1610-WAT

Question

میری بیٹیوں کے سکول میں یہ طریقہ کار ہے کہ سب بچوں سے ایک ایک روپیہ لیا جاتا ہے، اس کے بعد ان کی ٹافیاں، چاکلیٹ وغیرہ خرید لئے جاتے ہیں اور پھر کسی ایک برتن میں وہ سب مٹھائیاں رکھ کر بچوں سے اندازہ لگانے کو کہتے ہیں، جو صحیح بتا دے اسے وہ سب مٹھائیاں مل جاتی ہیں، اس میں حصہ وہی بچہ لے سکتا ہے، جس نے روپیہ جمع کرایا ہو، اور جس نے روپیہ جمع نہیں کروایا، وہ اس قرعہ اندازی میں حصہ بھی نہیں لے سکتا۔ شرعا اس کا کیا حکم ہے ؟

Answer (beginning)

سوال میں ذکر کردہ طریقہ کار شر عادرست نہیں ہے بلکہ جوئے والی صورت ہے اور جوا، ناجائز و حرام ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ : اس طریقہ کار کا حاصل یہ ہے کہ : " بچہ ایک روپیہ دے کر یا تو اپنے اس ایک روپیہ کی چیز سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے گا یا پھر اسے دوسروں کی بہت ساری چاکلیٹ وغیرہ مٹھائیاں بھی مل جائیں گی اور یہ جوا ہے۔ اس لئے اس طریقے کے مطابق بچوں میں انعامات بانٹنا حرام و گناہ ہے۔ سکول کے منتظمین پر لازم ہے کہ اس طریقہ کار کے مطابق انعامات کی تقسیم کاری سے باز آئیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.