Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا تراویح کی نماز چھوڑنا گناہ ہے ؟
- Fatwa no.
- 1607-WAT
Question
دارالافتاءاہلسنت (دعوت اسلامی) کسی کی نماز تراویح رہ گئی ، تو کیاوہ گناہ گار ہو گا؟ اور کیا قضا لازم ہوگی ؟
Answer (beginning)
رمضان المبارک میں روزانہ ہیں رکعات تراویح کی ادائیگی ہر عاقل بالغ غیر معذور مرد و عورت کے لئے سنت مؤکدہ ہے، اگر بغیر عذر ایک آدھ بار ترک کیا، تو اساءت (برا) ہے، لیکن اس کے ترک کی عادت بنالینا گناہ ہو گا۔ لہذا اگر کسی نے بغیر عذر شرعی تروایح کی نماز ایک بار چھوڑی، تو اساءت کا مرتکب ہوا اور اس کی عادت بنا لینے والا گناہ گار ہو گا، اس پر تو بہ لازم ہو گی۔ البتہ اب ان کی قضا نہیں ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.