Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا زوال کے وقت یا مکروہ وقت میں عمرہ کرنے سے ادا ہوگا؟
- Fatwa no.
- 1605-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ایک شخص نے عمرہ ادا کر ناشروع کیا، اسی دوران زوال کا وقت داخل ہو گیا، لیکن اس نے عمرہ مکمل کر لیا، تو کیاز وال کے وقت کیا گیا عمرہ درست ادا ہو گیا یا اس وقت میں رک جانا چاہئے تھا؟
Answer (beginning)
مکروہ اوقات میں طواف اور سعی کر سکتے ہیں، اس میں حرج نہیں، البتہ نماز طواف تین اوقات مکر وہ ( یعنی طلوع آفتاب سے تقریباً 20 منٹ بعد تک ، استواء شمس سے سورج ڈھلنے تک جسے عرف عام میں زوال کا وقت کہتے ہیں اور غروب آفتاب سے پہلے کے تقریباً 20 منٹ ) میں ادا کرنا، جائز نہیں ہے، بلکہ ان اوقات میں ادا کرنے سے ادا ہی نہیں ہوتی، یعنی یہ نماز ان میں سے کسی مکروہ وقت میں پڑھنے کے سبب ذمے سے ساقط نہیں ہوتی، بلکہ اسے مباح وقت میں پڑھنا بد ستور واجب رہتا ہے۔ لہذا اگر کوئی ان میں سے کسی وقت میں طواف کر کے فارغ ہوا ہو، تو اس وقت میں طواف کے نوافل ادانہ کرے، بلکہ مکر وہ وقت ختم ہونے کے بعد پڑھے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.