Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ایک مسجد میں ایک سےزیادہ جماعتیں کروانا
- Fatwa no.
- 1604-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میر اسوال یہ تھا کہ ایک مسجد میں ایک سے زیادہ جماعتیں کروائی جاسکتی ہیں ؟
Answer (beginning)
مسجد محلہ جس کے لیے امام اور جماعت مقرر ہو ، جب اس کے اہل محلہ اس میں اذان اور اقامت کے ساتھ مسنون طریقہ سے جماعت کے ساتھ نماز پڑھ لیں ، تو اب دوبارہ اسی کیفیت پر دوسری جماعت قائم کرنا مکروہ ہے،البتہ محراب سے ہٹ کر اذان کا اعادہ کیے بغیر دوسری جماعت کر سکتے ہیں، اقامت کہنے میں حرج نہیں۔ نوٹ: یہ یادر ہے کہ مخصوص شرائط کے ساتھ مرد پر مسجد میں جماعت اولی کے ساتھ نماز پڑھنا واجب ہے اور شرعی رخصت کے علاوہ، محض سستی کی بنا پر مسجد کی جماعت اولی چھوڑنا جائز نہیں۔ لہذا جماعت ثانی کی امید پر جماعت اولی کو بلا وجہ شرعی چھوڑنے کی اجازت نہیں ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.