Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

رقم صدقہ کرنے کی منت مانی تو رقم کہاں خرچ کریں؟

Fatwa no.
1601-WAT

Question

(دعوت اسلامی) ایک شخص نے کوئی چیز خریدی اور پسند نہیں آئی تو واپس کر دی اور رقم کی واپسی کا انتظار کرنے لگا، لیکن ٹائم لگنے لگ گیا، تو اس کو خدشہ ہوا کہ کمپنی نے پیسہ دبا لیا ہے ، تو اس نے یہ الفاظ کہے کہ اے اللہ اگر میری یہ رقم واپس مل جائے تو اتنی ہی رقم میں تیری راہ میں صدقہ کروں گا۔ ابھی اس کو پیسے واپس مل گئے ہیں ، اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ شرعی منت ہے ؟ اور یہ رقم کہاں صرف کر سکتے ہیں، صرف شرعی فقرا کو ہی یا ہر نیک و جائز کام میں خرچ کر سکتا ہے ؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں یہ منت منتِ شرعی ہے، جس کا پورا کرنا واجب ہے اور کام ہونے کے بعد اتنی رقم ایسے شرعی فقر اپر صدقہ کرنا ضروری ہے ، جن کو ز کو دی جاسکتی ہے یعنی وہ ہاشمی وسید بھی نہ ہوں اور دینے والے آباء واجداد اور اولاد، در اولاد سے نہ ہوں۔ اور نہ دینے والے اور لینے والے میں میاں بیوی کارشتہ ہو۔ زکوۃ کے مصرف کے علاوہ باقی کار خیر میں صرف کرنے کی اجازت نہیں۔ امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے سوال ہوا کہ : زید نے عہد کیا تھا کہ میں ملازم ہو جاؤں تو ایک ماہ کی تنخواہ راہ خدا میں صرف کروں گا، اب وہ ملازم ہو گیا، اگر زید اپنی اس ماہ کی تنخواہ کو اپنے کسی نہایت غریب بیکس…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.