Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

پیٹ میں موجود بچے کا فطرہ بھی ادا کرنا ہوگا؟

Fatwa no.
1599-WAT

Question

دارالافتاءاہلسنت (دعوت اسلامی) پیٹ میں جو بچہ ہو کیا اس کا بھی صدقہ فطر دینا لازم ہے ؟

Answer (beginning)

عید کے دن صبح صادق طلوع ہوتے ہی صدقہ فطر واجب ہوتا ہے ، اس وقت اگر بچہ پیٹ میں ہو تو اس کا صدقہ فطر لازم نہیں ہوتا اور اگر اس وقت سے پہلے پیدا ہو چکا ہو تو اس کا صدقہ فطر واجب ہوتا ہے۔ بدائع الصنائع میں ہے " ولا يخرج عن الحمل لا نعدام كمال الولاية "ترجمہ : اور حمل کی طرف سے صدقہ فطر نہیں نکالے گا کمال ولایت نہ ہونے کی وجہ سے۔ (بدائع الصنائع، بیان من تجب عليه صدقة الفطر،ج02،ص72، دارالکتب العربية) بحر الرائق میں ہے " لا يخرج عن عبده الآبق ... ولا عن الحمل "ترجمہ : اپنے بھاگے ہوئے غلام کا صدقہ فطر نہیں نکالے گا اور نہ حمل کا صدقہ فطر نکالے گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.