Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

تنہا وترپڑھتے ہوئے بلند آواز سے قرات کرنا

Fatwa no.
1597-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) مفتی صاحب سے عرض ہے کہ اگر رمضان میں تنہا غلطی سے وتر جہر سے شروع کیا پھر یاد آنے پر سری قراءت کی اور سجدہ سہو کیا نماز کا حکم کیا ہے؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں اگر سورج نکلنے سے پہلے وتر پڑھے، خواہ ادا یا قضا تو نماز درست ہو گئی ، سجدہ سہو کی بھی حاجت نہیں تھی۔ اور اگر دن میں وتر قضا پڑھتے وقت جہر کیا تھا اور یہ بھول کر کیا تھا تو سجدہ سہو سے تلافی ہو گئی اور نماز درست ہو گئی۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ : رمضان یار مضان کے علاوہ جہر (یعنی بلند آواز سے تلاوت) کرنے یا نہ کرنے کے اعتبار سے وتروں کا حکم عام جہری نمازوں کی طرح ہے اور جہری نمازوں کے متعلق اصول یہ ہے کہ جہری ادا نماز، یونہی ایسی جہری قضا نماز جو جہری کے وقت میں پڑھی جائے ، ان میں منفر د (یعنی تنہا نماز پڑھنے والے) کو جہر کرنے یانہ کرنے کا اختیار ہے، البتہ جہر افضل ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.