Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
رکی ہوئی تنخواہ یا اجرت پر زکوۃ فرض ہوگی؟
- Fatwa no.
- 1593-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میں چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہوں، ہم لوگوں کا کام کرتے ہیں، تو ہماری اجرت لوگوں کے پاس ادھار رہتی ہے، کچھ مل جاتی ہے اور کچھ کافی عرصہ تک نہیں ملتی، تو جو لوگوں کے پاس ادھار ہو گی، اس پر زکوۃ کا کیا حکم لگے گا؟
Answer (beginning)
اجرت دین ضعیف ہے کہ یہ منفعت کا عوض ہے جیسا کہ مکان وغیرہ کا کرایہ اور دین ضعیف جب تک وصول نہ ہو جائے، اس کی وجہ سے آدمی صاحب نصاب نہیں بنتا، لہذا اجرت کے وصول ہونے سے پہلے اس کی زکوۃ بھی لازم نہیں ہو گی، بلکہ وصول ہونے کے بعد جب سال گزرے گا، تو اس کی زکوۃ لازم ہوگی، جبکہ اس کے پاس اس کی جنس سے کوئی دوسرا نصاب زکوۃ موجود نہ ہو، البتہ اگر پہلے سے اس کی جنس سے کوئی نصاب موجود ہے، تو یہ وصول ہوتے ہی اس میں ایڈ کر دیا جائے گا اور اس پہلے نصاب کا جب سال پورا ہو گا، تو اس رقم پر بھی زکوۃ فرض ہو جائے گی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.