Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
عورت کے مخصوص ایام میں نکاح کرنے کا حکم
- Fatwa no.
- 1591-WAT
Question
دارالافتاءاہلسنت (دعوت اسلامی) اگر عورت مخصوص ایام میں ہو، تو نکاح ہو جاتا ہے یا نہیں؟
Answer (beginning)
مخصوص ایام میں نکاح ہو سکتا ہے، البتہ اس حالت میں بیوی کے ساتھ ازدواجی تعلق قائم کرنا، جائز نہیں ہوگا، کیونکہ حیض و نفاس کی حالت میں بیوی کی ناف سے لے کر گھٹنوں کے نیچے تک کے حصہ بدن کو بلاحائل چھونا، شہبوت سے ہو یا بغیر شہوت کے اور اس کی طرف شہوت کے ساتھ نظر کرنا، جائز نہیں، اسی طرح حائل کپڑاو غیر واگر بار یک ہے کہ جسم کی گرمی پہنچنے سے مانع نہیں تو اس کے اوپر سے بھی چھونا وغیر ہ جائز نہیں ، ہاں موٹا ہو کہ جسم کی گرمی نہیں پہنچے گی تو اب اس کے اوپر سے چھونے میں حرج نہیں۔ ناف سے لے کر گھٹنوں کے نیچے تک کے حصے کے علاوہ باقی جسم سے نفع حاصل کرنا اور بوس و کنار کرنا جائز ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.