Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

رمضان کے روزے کا کفارہ کیا ہے؟

Fatwa no.
1582-WAT

Question

(دعوت اسلامی) رمضان کا روزہ چھوڑ دیا، تو اس کی وجہ سے کتنا کفار وادا کر نالازم ہوتا ہے؟

Answer (beginning)

اگر کوئی شخص بلا عذر شرعی رمضان کا فرض روزہ نہ رکھے ، تو اس پر تو بہ لازم ہو گی اور اس کے بدلے ایک ہی دن کے روزے کی قضاء لازم ہو گی، اس میں کفارہ نہیں ہے، لیکن اگر کسی نے جان بوجھ کر رمضان کا فرض روزہ توڑ دیا، تو تو به اور روزے کی قضاء کے ساتھ ساتھ اس پر کفارہ بھی لازم ہو گا، جبکہ کفارے کی شرائط پائی جائیں۔ نوٹ : روزہ توڑنے کا کفارہ یہ ہے کہ ممکن ہو ، تو ایک باندی یا غلام آزاد کرے اور اس پر قدرت نہ ہو جیسا کہ آجکل غلام میسر نہیں، تو پھر پے درپے (لگاتار ) 60 روزے رکھے اور اگر اس پر بھی قدرت نہ ہو، تو 60 مسکینوں کو پیٹ بھر کر دو وقت کا کھانا کھلائے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.