Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

روزے میں نمک چکھنا کیسا؟

Fatwa no.
1569-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کھانا بنانے والا روزہ کی حالت میں نمک و غیر ہ چکھ کر تھوک دیتا اور کلی کر لیتا ہے، تو کیا ایسا کرنا درست ہے ؟

Answer (beginning)

روز و دار کو بلا عذر کسی چیز کا چکھنا مکروہ ہے اور عذر ہو، تو حرج نہیں۔ چکھنے سے مراد یہ ہے کہ زبان پر رکھ کر ذائقہ دریافت کر لیں اور اسے تھوک دیں، اس میں سے حلق میں کچھ نہ جانے پائے ، ورنہ اگر ذائقہ دریافت کرنے کے لئے تھوڑا سا کھالیا، تو نہ صرف مکروہ بلکہ روزہ ہی ٹوٹ جائے گا، جبکہ روزہ دار ہونا یاد ہو، بلکہ اگر کفارہ کی شرائط پائی گئیں، تو کفارہ بھی لازم ہو گا۔ اور چکھنے کے لیے عذر سے مراد یہ ہے کہ مثلاً عورت کا شوہر بد مزاج ہے کہ نمک کم و بیش ہو گا، تو اس کی ناراضی کا باعث ہو گا، اس وجہ سے چکھنے میں حرج نہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.