Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

صاحب نصاب کے پاس دوران سال آنے والی رقم زکوۃ میں شامل ہوگی؟

Fatwa no.
1567-WAT

Question

ہمارے پاس بقدر نصاب رقم موجود ہو اب ان پر سال گزرنے کے بعد ز کو لازم ہو گی تو دوران سال جور تم آئے گی وہ کیلا اس نصاب میں شامل ہو گی یا نہیں ؟

Answer (beginning)

جو شخص مالک نصاب ہے اگر در میان سال میں کچھ اور مال اُسی جنس کا حاصل کیا تو اس نے مال کا جد اسال نہیں، بلکہ پہلے مال کا ختم سال اس کے لیے بھی سال تمام ہے، اگر چہ سال تمام سے ایک ہی منٹ پہلے حاصل کیا ہو، خواہ وہ مال اُس کے پہلے مال سے حاصل ہوا یا میراث و ہبہ یا اور کسی جائز ذریعہ سے ملا ہو۔ اس سلسلے میں سونا، چاندی، کرنسی نوٹ، سلمان تجارت ایک ہی جنس شمار ہوں گے۔ لہذا دریافت کردہ صورت میں دوران سال جور قم حاصل ہو گی وہ پچھلے نصاب کے ساتھ شامل کی جائے گی اور سال پورا ہونے پر جتنی رقم موجود ہوگی، شرائط کے مطابق اس کل رقم پر زکوۃ لازم ہو گی اور جو استعمال کر لی اس پر زکاۃ نہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.