Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
قریب والی مسجد چھوڑ کر دور والی مسجد میں نماز پڑھنا
- Fatwa no.
- 1561-WAT
- Issued
- 16 رمضان المبارک 1444ھ / 07 اپریل 2023ء
Question
(دعوت اسلامی) اپنے گھر کے قریب مسجد ہونے کے باوجود دوسری مسجد میں نماز پڑھنے جانا کیسا ہے ؟
Answer (beginning)
اگر گھر کے قریب کی مسجد میں سنی صحیح العقیدہ، صحیح القراءة ، لائق عامت شخص کی اقتدا میں نماز ہوتی ہے تو گھر کی قریب کی مسجد چھوڑ کر دوسری مسجد میں نماز پڑھنے جانا، بہتر نہیں ہے لیکن اگر کوئی محلے کی مسجد چھوڑ کر دوسری مسجد میں جا کر نماز پڑھے گا تو بھی اس کی نماز ہو جائے گی۔ اور اگر دوسری مسجد میں جانے کی وجہ یہ ہے کہ یہ دوسری مسجد کا امام یا موذن ہے، یا اس کے نہ جانے سے اس کی جماعت میں خلل کا اندیشہ ہے یا کوئی اور وجہ شرعی ضروری ہے تو اب وہاں جاناضروری ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.