Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
زکوۃ کی رقم استعمال میں لاکر بعد میں ادا کرنا کیسا؟
- Fatwa no.
- 1553-WAT
- Issued
- 15 رمضان المبارک 1444ھ / 06 اپریل 2023ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) زکوۃ کی رقم امانت کے طور پر ہوتی ہے، تو کیا اگر کوئی وصول کرنے والا یاصدر وسیکرٹری وغیر ہ اس کو ذاتی استعمال میں لے آئے پھر اپنی طرف سے زکاۃ کی مد میں اتنی رقم جمع کروادے، تو کیا ان کی زکوۃ ادا ہو جائے گی۔
Answer (beginning)
جس شخص کو کسی نے اپنی زکوۃ ادا کرنے کے لیے وکیل بنایا، اس کا زکوۃ کی رقم کو اس نیت سے اپنے استعمال میں لانا کہ بعد میں ادائیگی کر دوں گا، یہ جائز نہیں اور اگر کسی نے ایسا کیا، تو اب اپنے طور پر زکوۃ کے پیسے ادا کرنے سے زکاۃ ادا نہیں ہو گی، بلکہ اس پر لازم ہے کہ جس نے اس کو زکوۃ دی تھی، اس کو یہ صورت حال بتا کر دوبارہ زکاۃ ادا کرنے کی اجازت لے ، اب اگر وہ کہے کہ تم میری طرف سے یہ دوبارہ ادا کر دو، تو کر سکتا ہے۔ اور تو بہ کرنا بھی لازم ہوگی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.