Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بلاضرورت نرسنگ کی درخواست دے کرپیسے لینا
- Fatwa no.
- 1543-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) امریکہ کے قانون کے مطابق زیادہ عمر کے افراد جنھیں کوئی مسئلہ ہو وہ اپنے لیے نرسنگ کی درخواست دے سکتا ہے، اور یہاں کے قانون کے مطابق اس کی دیکھ بھال کے لیے اسے کوئی بندہ دیا جاتا ہے ، اور وہ اس کے خاندان سے بھی ہو سکتا ہے ، اب یہاں عمو مالوگ ایسا کرتے ہیں کہ ان کے والدین کو نرسنگ کی ضرورت نہیں ہوتی مگر وہ ان کے لیے نرسنگ کی درخواست دے کر اس کے پیسے لگوالیتے ہیں تو کیا ایسا کرنا جائز ہے؟
Answer (beginning)
قانون کے مطابق اگر ایسے افراد جن کو نرسنگ کی حاجت نہیں ، درخواست دینے کے اہل نہیں تو جھوٹ و غلط بیانی کر کے ان کے لئے نرسنگ کی درخواست دینا جائز نہیں اور یوں دھوکا دے کر پیسے حاصل کرنانا جائز و حرام ہے کہ دھو کہ دہی سے کسی کافر کا مال لینا بھی حلال نہیں، نیز اگر ایسے لوگوں کے خلاف قانونی کاروائی بھی کی جاتی ہو ، انھیں قید کیا جاتا ہو یا جرمانہ دینا پڑے، تو یہ اس عمل کے ناجائز ہونے کی ایک اور وجہ ہو گی، کیونکہ اس میں اپنے آپ کو ذلت پر پیش کرنا ہے جو کہ جائز نہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.