Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ایگریمنٹ کینسل کرنے پر اضافی رقم لینا کیسا ؟

Fatwa no.
1542-WAT
Issued
12 رمضان المبارک 1444ھ /03اپریل2023ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کسی چیز کا بیعانہ مثلا پانچ لاکھ دیا ہوا تھا پھر دوسری پارٹی سودا کینسل کر دیتی ہے تو اس پر اضافی رقم جرمانہ کے طور پر لے سکتے ہیں؟

Answer (beginning)

صورتِ مسئولہ میں جب شرعا عقد مکمل و فائنل ہو گیا تو اب بلا وجہ شرعی کوئی ایک تنہا اپنی مرضی سے اسے ختم نہیں کر سکتا لہذا ایسی صورت میں اگر پارٹی سودا کینسل کرے تو دوسرے فریق کو یہ اختیار ہے کہ اس کا کینسل کرنانہ مانے اور عقد کو مکمل ولازم جانے لیکن اگر پارٹی کے عقد ختم کرنے کو مان کر یہ چاہے کہ اس ختم کرنے کے جرمانے میں اس سے اضافی رقم لے تو یہ شرعا جائز نہیں ہے بلکہ سود اختم ہونے کی صورت میں جو بیانہ دیا تھا فقط وہی واپس لے سکتے ہیں، کیونکہ جرمانہ تعزیر بالمال ہے اور تعزیر بالمال منسوخ ہے اور منسوخ پر عمل کرنا، ناجائز و حرام ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.