Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
سنتوں کی کسی رکعت میں سورۃ فاتحہ نہ پڑھی توکیا حکم ہے ؟
- Fatwa no.
- 1537-WAT
- Issued
- 08 رمضان المبارک 1444ھ /30 مارچ 2023ء
Question
ظہر کی چار سنت مؤکدہ میں زید نے سورہ فاتحہ بھول کر سورت شروع کر دی سورت پوری کرنے کے بعد اسے یاد آیا کہ اس نے فاتحہ نہیں پڑھی لیکن اسے اس مسئلہ پتہ نہیں تھا کہ اس صورت میں کیا کرنا چاہیے تو اس نے اپنی نماز آگے جاری رکھی اور آخر میں سجدہ سہو کر لیا کیا اس صورت میں اس کی نماز ہو گئی ؟ جواب عنایت فرمائیے۔
Answer (beginning)
دریافت کردہ صورت میں زید پر ظہر کی چار رکعت سنت مؤکدہ کا دو بار وپڑھنا واجب ہے کہ زید کو جب سورہ فاتحہ سجدے سے پہلے یاد آ گیا تو اب اس پر واجب تھا کہ وہ سورہ فاتحہ پڑھ کر پھر سورت پڑھتا مگر اس نے ایسانہ کیا یہ قصدا ترک واجب کیا اور قصد اواجب چھوڑنے سے نماز واجب الاعادہ ہو جاتی ہے، سجدہ سہو کافی نہیں ہوتا۔ اور مسئلے سے جاہل ہو نا کوئی عذر نہیں، زید پر لازم تھا کہ ضروری مسائل سیکھتا مگر اس نے نہ ایسانہ کیا یہ اس کا الگ جرم ہے۔ بہار شریعت میں ہے: ” قصد اواجب ترک کیا تو سجدۂ سہو سے وہ نقصان دفع نہ ہو گا بلکہ اعادہ واجب ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.